Saturday, February 12, 2022

میاں بیوی کی (عجیب کہانی)

 میاں بیوی کی (عجیب کہانی)

 

تم اور میں کبھی بیوی اور شوہر تھے،

پھر 

تم ماں بن گئیں اور میں باپ بن کے رہ گیا


تم نے گھر کا نظام سنبھالا اور میں نے زریعہ معاش کا

اور پھر تم

"گھر سنبھالنے والی ماں" بن گئیں  اور میں کمانے والا باپ بن کر رہ گیا۔۔۔۔


بچوں کو چوٹ لگی تو تم نے گلے لگایا اور میں نے سمجھایا

تم محبت کرنے والی ماں بن گئیں اور میں صرف سمجھانے والا باپ ہی رہ گیا۔۔


بچوں نے غلطیاں کیں تم ان کی حمایت کر کے "understanding mom" بن گئیں اور میں

"نہ سمجھنے والا" باپ بن کے رہ گیا۔۔۔۔


"بابا ناراض ہوں گے" یہ کہہ کر تم اپنے بچوں کی"best friend" بن گئیں۔۔۔ اور میں غصہ کرنے والا باپ بن کے رہ گیا....


تم سارا دن بچوں سے راز و نیاز کرتے ہوئے اپنا مستقبل محفوظ بناتے ہوئے بچوں کے ذہنوں میں گھر کرتی چلی گئیں۔۔۔

اور میں فقط گھر کا مستقبل بنانے کے لیے اپنا آج برباد کرتا چلا گیا۔


تمہارے آنسوؤں میں ماں کا پیار نظر آنے لگا اور میں بچوں کی انکھوں میں فقط بے رحم باپ بن کے رہ گیا۔۔۔۔


تم چاند کی چاندنی بنتی چلی گئیں اور پتہ نہیں کب میں سورج کی طرح آگ اگلتا باپ بن کر رہ گیا۔۔۔


تم ایک "رحم دل اور شفیق ماں" بنتی گئیں اور میں تم سب لوگوں کی زندگی کا بوجھ اٹھانے والا صرف ایک باپ بن کر رہ گیا۔


یہ ایک انتہائی تلخ معاشرتی تصویر ہے۔


بہت کم ایسی مائیں ملیں گی جو اپنے بچوں کے سامنے اُنکے باپ کا مقام بُلند کرکے رکھتی ہیں جو بچوں کو یہ بتاتی ہیں کہ کیسے اُنکا باپ اپنے آگے کا نوالہ اپنے بچوں کو کھلا کر خود بھوکا رہ جاتا ہے۔ کیسے ایک باپ سارا دن اپنے بچوں کے رزق کیلئے مارا مارا پھرتا ہے۔ اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کیلئے کیا کیا قربانیاں دیتا ہے اور کن کن تکالیف کا سامنا کرتا ہے- کسطرح اُنکو اُنکے پیروں پر کھڑا کرنے کیلئے اپنے آپ کو برباد کر لیتا ہے خود کو ختم کر لیتا ہے۔ تب کہیں جاکر اولاد کسی قابل بنتی ہے۔

مگر اولاد کو یہ بتانے اور سمجھانے والی مائیں اُنکو یہ نہیں بتا پاتیں۔ اسی لیئے اولاد اُس وقت تک اس بات کو سمجھ ہی نہیں پاتی جب تک وہ خود باپ نہ بن جائے اور تب تک بہت دیر ہو چُکی ہوتی ہے۔


از قلم : فہیم خان شیروانی 

١٣-٠٢-٢٠٢٢

٠٢:٢٢ام

Sunday, October 31, 2021

آذانء بلال

حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ سے ایک دفعہ کسی نے پوچھا کہ آپ نے پہلی دفعہ حضور نبی کریم ؐصل اللہُ علیہ وآلہ وسلم 
 کو کیسے دیکھا ؟
حضرت بلال رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں مکے کے لوگوں کو بہت ہی کم جانتا تھا کیونکہ غلام تھا اور عرب میں غلاموں سے انسانیت سوز سلوک عام تھا انکی استطاعت سے بڑھ کے ان سے کام لیا جاتا تھا تو مجھے کبھی اتنا وقت ہی نہیں ملتا تھا کہ باہر نکل کے لوگوں سے ملوں لہذا مجھے حضور پاک یا اسلام  کا قطعی علم نہ تھا۔
ایک دفعہ کیا ہوا کہ مجھے سخت بخار نے آ لیا سخت جاڑے کا موسم تھا اور انتہائی ٹھنڈ اور بخار نے مجھے کمزور کر کے رکھ دیا لہذا میں نے لحاف اوڑھا اور لیٹ گیا ادھر میرا مالک جو یہ دیکھنے آیا کہ میں جَو پیس رہا ہوں یا نہیں وہ مجھے لحاف اوڑھ کے لیٹا دیکھ کے آگ بگولا ہو گیا اس نے لحاف اتارا اور سزا کے طور پہ میری قمیض بھی اتروا دی اور مجھے کھلے صحن میں دروازے کے پاس بٹھا دیا کہ یہاں بیٹھ کے جَو پیس۔
اب سخت سردی اوپر سے بخار اور اتنی مشقت والا کام میں روتا جاتا تھا اور جَو پیستا جاتا تھا کچھ ہی دیر میں دروازے پہ دستک ہوئی میں نے اندر آنے کی اجازت دی تو ایک نہائت متین اور پر نور چہرے والا شخص اندر داخل ہوا اور پوچھا کہ جوان کیوں روتے ہو؟ 
جواب میں میں نے کہا کہ جاؤ اپنا کام کرو تمہیں اس سے کیا میں جس وجہ سے بھی روؤں یہاں پوچھنے والے بہت ہیں لیکن مداوا کوئی نہیں کرتا حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم یہ جملے سن کے چل پڑے، جب چل پڑے تو بلالؓ نے کہا کہ بس؟ 
میں نہ کہتا تھا کہ پوچھتے سب ہیں مداوا کوئی نہیں کرتا
حضور ﷺ  یہ سن کر بھی چلتے رہے بلالؓ کہتے ہیں کہ دل میں جو ہلکی سی امید جاگی تھی کہ یہ شخص کوئی مدد کرے گا وہ بھی گئی۔ 
لیکن بلالؓ کو کیا معلوم کہ جس شخص سے اب اسکا واسطہ پڑا ہے وہ رحمت اللعالمین ہیں۔
بلالؓ کہتے ہیں کہ کچھ ہی دیر میں وہ شخص واپس آ گیا۔ اس کے ایک ہاتھ میں گرم دودھ کا پیالہ اور دوسرے میں کھجوریں تھیں اس نے وہ کھجوریں اور دودھ مجھے دیا اور کہا کھاؤ پیو اور جا کے سو جاؤ۔
میں نے کہا تو یہ جَو کون پیسے گا؟
 نہ پِیسے تو مالک صبح بہت مارے گا۔ اس نے کہا تم سو جاؤ یہ پسے ہوئے مجھ سے لے لینا
بلالؓ سو گئے اور حضور ﷺ نے ساری رات ایک اجنبی حبشی غلام کے لئے چکی پیسی۔
صبح بلالؓ کو پسے ہوئے جو دیے اور چلے گئے دوسری رات پھر ایسا ہی ہوا، دودھ اور دوا بلالؓ کو دی اور ساری رات چکی پیسی ایسا تین دن مسلسل کرتے رہے جب تک کہ بلالؓ ٹھیک نہ ہو گئے۔۔
یہ تھا وہ تعارف جس کے بطن سے اس لافانی عشق نے جنم لیا کہ آج بھی بلالؓ کو صحابی ءِ رسول بعد میں، عاشقِ رسول پہلے کہا جاتا ہے۔
 
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کے بعد سیدنا بلال رضی اللہ عنہ مدینہ کی گلیوں میں یہ کہتے پھرتے کہ لوگو تم نے کہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا ہے تو مجھے بھی دکھا دو، پھر کہنے لگے کہ اب مدینے میں میرا رہنا دشوار ہے، اور شام کے شہر حلب میں چلے گئے۔ 
تقریباً چھ ماہ بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خواب میں زیارت نصیب ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما رہے تھے :

ما هذه الجفوة، يا بلال! ما آن لک أن تزورنا؟

حلبي، السيرة الحلبيه، 2 : 308

’’اے بلال! یہ کیا بے وفائی ہے؟ (تو نے ہمیں ملنا چھوڑ دیا)، کیا ہماری ملاقات کا وقت نہیں آیا؟‘‘

خواب سے بیدار ہوتے ہی اونٹنی پر سوار ہو کر 
لبیک! یا سیدی یا رسول ﷲ! کہتے ہوئے مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہوگئے۔ جب مدینہ منورہ میں داخل ہوئے تو سب سے پہلے مسجدِ نبوی پہنچ کر حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی نگاہوں نے عالمِ وارفتگی میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ڈھونڈنا شروع کیا۔ کبھی مسجد میں تلاش کرتے اور کبھی حجروں میں، جب کہیں نہ پایا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر انور پر سر رکھ کر رونا شروع کر دیا اور عرض کیا : 
یا رسول اللہ! آپ نے فرمایا تھا کہ آکر مل جاؤ، غلام حلب سے بہرِ ملاقات حاضر ہوا ہے۔ یہ کہا اور بے ہوش ہو کر مزارِ پُر انوار کے پاس گر پڑے، کافی دیر بعد ہوش آیا۔ اتنے میں سارے مدینے میں یہ خبر پھیل گئی کہ مؤذنِ رسول حضرت بلال رضی اللہ عنہ آگئے ہیں۔
 مدینہ طیبہ کے بوڑھے، جوان، مرد، عورتیں اور بچے اکٹھے ہو کر عرض کرنے لگے کہ بلال! ایک دفعہ وہ اذان سنا دو جو محبوبِ اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں سناتے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں معذرت خواہ ہوں کیونکہ میں جب اذان پڑھتا تھا تو اشہد ان محمداً رسول ﷲ کہتے وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت سے مشرف ہوتا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دیدار سے اپنی آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچاتا تھا۔ اب یہ الفاظ ادا کرتے ہوئے کسے دیکھوں گا؟

بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے مشورہ دیا کہ حسنین کریمین رضی ﷲ عنہما سے سفارش کروائی جائے، جب وہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو اذان کے لیے کہیں گے تو وہ انکار نہ کر سکیں گے۔ چنانچہ امام حسین رضی اللہ عنہ نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا :

يا بلال! نشتهی نسمع أذانک الذی کنت تؤذن لرسول ﷲ صلی الله عليه وآله وسلم فی المسجد.

سبکی، شفاء السقام : 239
هيتمی، الجوهر المنظم : 27

’’اے بلال! ہم آج آپ سے وہی اذان سننا چاہتے ہیں جو آپ (ہمارے ناناجان) اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس مسجد میں سناتے تھے۔‘‘

اب حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو انکار کا یارا نہ تھا، لہٰذا اسی مقام پر کھڑے ہوکر اذان دی جہاں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ظاہری حیات میں دیا کرتے تھے۔ بعد کی کیفیات کا حال کتبِ سیر میں یوں بیان ہوا ہے :

ذهبي، سير أعلام النبلاء، 1 : 2358
سبکي، شفاء السقام : 340
حلبي، السيرة الحلبيه، 3 : 308

’’جب آپ رضی اللہ عنہ نے (بآوازِ بلند) ﷲ اکبر ﷲ اکبر کہا، مدینہ منورہ گونج اٹھا (آپ جیسے جیسے آگے بڑھتے گئے جذبات میں اضافہ ہوتا چلا گیا)، جب اشھد ان لا الہ الا اﷲ کے کلمات ادا کئے گونج میں مزید اضافہ ہو گیا، جب اشھد ان محمداً رسول اﷲ کے کلمات پر پہنچے تو تمام لوگ حتی کہ پردہ نشین خواتین بھی گھروں سے باہر نکل آئیں (رقت و گریہ زاری کا عجیب منظر تھا) لوگوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے آئے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کے بعد مدینہ منورہ میں اس دن سے زیادہ رونے والے مرد و زن نہیں دیکھے گئے۔💞

علامہ اقبال رحمۃ ﷲ علیہ اذانِ بلال رضی اللہ عنہ کو ترانۂ عشق قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں :

اذاں ازل سے ترے عشق کا ترانہ بنی
نماز اُس کے نظارے کا اک بہانہ بنی

ادائے دید سراپا نیاز تھی تیری
کسی کو دیکھتے رہنا نماز تھی تیری

از قلم: فھیم خان شیروانی
بتاریخ: 21-08-2021

Friday, January 1, 2021

سال ‏2020 ‏اور ‏ھم

٣٦٥ دن ٨٧٦٠ گھنٹے ٥٢٥٦٠٠ منٹ  اور ان ٥٢٥٦٠٠ منٹ میں آپ معلوم ہے آپ نے کتنی آکسیجن استمال کی ؟  ٢٨٩٠٨٠٠ مل  آکسیجن استمال کی کیا آپ کو یہ بھی معلوم ہے کہ ایک بڑے  ٹینکر میں کتنی آکسیجن ہوتی ہے ؟  یاد رہے میں یہاں ٹینکر کی بات کر رہا ہوں سلنڈر کی نہیں لہذا ہم ٨٢٦٠ آکسیجن کے بڑے ٹینکر استمال کرتے ہیں اور اس کی قیمت بنتی ہے تقریباً ٨ کروڑ روپے .
اب سوچیں ان ٨ کروڑ کی آکسیجن کے بدلے ہم نے کتنے پیسے ادا کئے ؟
زیرو، کچھ بھی نہیں اگر وہ رب ہمیں صرف یہ فری کی آکسیجن سپلائی بند کر دے تو ہماری قبر اوپن ہو جائیگی ، ایسا ہی ہے نا ؟
سال ختم ہو نے والا ہے ذرا سوچیں ہم نے صرف اور صرف اس آکسیجن کا شکر ادا کیا ؟ باقی ہزار ہا نعمتیں ابھی باقی ہیں جن کا ذکر کرنے سے بات طویل ہو جائیگی .اگر نہیں کیا تو یہ فکر پیدا کریں اور ڈریں اس وقت سے جب  یہ مفت کی سپلائی بند کر دی جائیگی . شکر کو زندگی کا،  اپنے دن کا، اپنے ہر گھنٹے کا اور اپنے ہر لمحے کا حصہ بنا لیں کیوں کہ رب باری  تعالیٰ فرماتا ہے کہ
ترجمہ: اگر تم شکر کروگے اور زیادہ دونگا .(ال قرآن )
تو فارمولا آسان ہے لمبی زندگی چاہتے ہیں تو اس زبان کو شکر کرنے کا عادی بنا لیں .
سال ٢٠٢٠ کے اختتام پر میرا یہی پیغام ہے❤
واسلام: فھیم خان شیروانی

Tuesday, December 17, 2019

*شُکر کی فریکوینسی*

*شُکر کی فریکوینسی* 

امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اپنے شاگردوں کے ساتھ درس و تدریس میں مشغول تھے کہ اچانک ان کا ایک خادم پریشان حال کمرے میں داخل ہوا اور کہا کہ “حضرت! جس جہاز میں آپ کا تجارتی سامان آ رہا تھا وہ راستے میں ڈوب گیا ہے۔” امام صاحب مسکرائے، پورے اطمینان کے ساتھ فرمایا “الحمدللہ” اور دوبارہ درس و تدریس میں لگ گئے۔ کچھ دیر بعد وہ خادم دوبارہ اندر آیا اور کہنے لگا “حضرت! خبرجھوٹی تھی، جہاز بندرگاہ پر صحیح سلامت لنگر انداز ہو گیا ہے۔” امام صاحب مسکرائے “الحمدللہ” کہا اور پھر تعلیم و تعلم کا سلسلہ وہیں سے جوڑ دیا جہاں سے رُکا تھا۔ایک شاگرد نے حیرانی کے عالم میں دریافت کیا “امام صاحب! یہ کیا ماجرہ ہے؟ جہاز ڈوب گیا تو الحمدللہ، بچ گیا تو پھر الحمد للہ؟ آپ کی تو مسکراہٹ میں بھی کوئی فرق نہیں آیا؟” امام صاحب نے اس کی طرف غور سے دیکھا اور بولے “بیٹے! وہ ڈوبا تھا تو اللہ کی مرضی تھی، اب بچ گیا ہے تو یہ بھی اللہ کی مرضی سے ہوا ہے، ہمیں تو ہر حال میں اس کا شکر گزار رہنا ہے۔”

 
اس دنیا میں ایک قانون موجود ہے اور اسکو “Law of attraction” (قانون کشش) کہتے ہیں۔ اس کی مثال بڑی سادہ ہے ہمارے اردگرد ہر جگہ “لہریں” موجود ہیں۔ یقین کرنا ہے تو ریڈیو آن کریں اور فریکوئنسی کے ساتھ چھیڑ چھاڑ شروع کر دیں، آپ کو کسی چینل پر کوئی “غمزدہ خبر” سننے کو ملے گی۔ آپ کا اختیار ہے کہ آپ فریکوئنسی تبدیل کردیں کسی دوسرے چینل پر کوئی “خوشگوار بات” سننے کو مل جائے گی۔ آپ کا موڈ اور آپ کا مزاج بھی اس خبر اور اس کے اثرات کے ساتھ ساتھ تبدیل ہونا شروع ہو جائے گا ۔اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ “غمزدہ خبر” والی لہریں کمرے سے چلی گئی ہیں یا اس فریکوئنسی پر “غمزدہ خبر” موجود ہی نہیں رہی بلکہ آپ نے اپنی فریکوئنسی کو “خوشگوار باتوں” کی طرف موڑ دیا ہے اسلئیے ہر طرف سے لہریں آپ کو “خوشگوار باتیں” سنانے پر مجبور ہیں۔ بالکل یہی معاملہ “قانون کشش” کا ہے۔ جب آپ شکر گزار ہوتے ہیں تو پوری کائنات حرکت میں آجاتی ہے اللہ تعالی ہر چیز کو آپ کی سیٹ کی ہوئی فریکوئنسی پر لگا دیتے ہیں۔ انتخاب اور مرضی آپ کی اپنی ہے۔ آپ “شکر گزاری” کا چینل سیٹ کرتے ہیں یا خود کو “شکوے شکایتوں” کی فریکوئنسی پر ٹیون کرتے ہیں۔

آپ جو حاصل کرنا چاہتے ہیں، جیسا بننا چاہتے ہیں، ویسا سوچنا شروع کر دیں۔ اگر آپ شکر گزار ہیں تو پھر آپ کو صبح سے شام تک شکر گزار لوگ ہی ٹکرائیں گے اور اگر کوئی ناشکرا مل بھی گیا تو آپ اس کے بھی شکر گزار ہو جائیں گے۔ واصف علی واصف صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ “جو مقام شکوہ ہوتا ہے، وہی دراصل مقام شکر ہوتا ہے”۔ آپ بھی اپنی زندگی میں موجود چیزوں کی فہرست ترتیب دیں۔اپنے پیسے، رشتے، روزگار، بچے، بیوی تعلقات اور پڑوس وغیرہ ،جس چیز کی زیادتی آپ کی زندگی میں ہوگی اور آپ اس سے خوش ہوں گے تو دراصل اس کے بارے میں آپ زیادہ شکر گزار رہتے ہیں اور جس چیز میں کمی اور کوتاہی ہے دراصل وہ آپ کے” کم شکر گزار” ہونے یا “نا شکری” کا نتیجہ ہے۔ بلوں کے بروقت ادا ہوجانے، تنخواہ وقت پر مل جانے، بچوں کی فیسیں ادا ہو جانے، تین وقت کا کھانا پیٹ بھر کر کھا لینے، جسم پر صاف ستھرے کپڑے، ہاتھ میں موبائل، گھر میں خیال کرنے والی ماں، بیوی، بہن، بیٹی۔ آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچانے والے بچے اور نہ جانے کیا کیا نعمتیں ہیں جن پر آپ دن رات صبح شام شکر ادا کرنا شروع کر دیں تو بھی کم ہے۔

 
یاد رہے شکر دل سے ادا ہونا چاہئے۔آپ کے احساسات اور دل کی دھڑکنوں تک سے شکرگزاری کے جذبات پھوٹ رہے ہوں، آپ بات بات پر پورے خلوص دل کے ساتھ “الحمدللہ” کہہ رہے ہوں۔ صبح کوڑا لینے آنے والے سے لے کر شام کو گھر چھوڑنے والے ڈرائیور تک کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر ایک دفعہ تھینکس، شکریہ، جزاک اللہ تو بول کر دیکھیں۔ نہ آپ کا انگ انگ جھوم اٹھے تو بات کریں۔ اللہ تعالی اس کائنات کو، اسکی ساری قوتوں کو آپ کی خدمت میں لگا دے گا۔

نہایت ہی کم ظرف اور ناشکرے ہیں ہم لوگ۔ سارا دن ہم اپنی فریکوئنسی کو “گلے شکوں” پر ٹکا کر رکھتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ ہر طرف سے شکر گزاری کی لہریں آتی رہیں۔ اللہ تعالی قرآن میں واضح الفاظ میں فرماتے ہیں کہ “اللہ کو کیا پڑی ہے، کہ تمھیں شکر گزار ہونے اور ایمان لے آنے کے بعد بھی عذاب دے؟ اللہ تو بڑا قدردان اور ہر چیز کا جاننے والا ہے”۔ اپنی زندگی کو اگر دنیا میں جنت بنانا چاہتے ہیں تو پھر ہر کسی کے لیے اپنے دل اور دماغ سے گلے، شکوے اور شکایتیں نکال کر پھینک دیں۔ ہر انسان کا، ہر چیز کا، اس کائنات کا اور اللہ تعالی کا ہر لمحہ شکر ادا کرتے رہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا “جو بندوں کا شکر ادا نہیں کرتا وہ دراصل اللہ تعالی کا شکر ادا نہیں کرتا”۔ایک دفعہ آپ “شُکر” کو اپنی زندگی میں لے آئیں یہ کائنات آپ پر ایسے ایسے راز کھولے گی کہ آپ حیران رہ جائیں گے۔

Friday, March 3, 2017

کنجر کلچر

کنجر کلچر

جناب جسٹس شوکت عزیز صدیقی صاحب نے ایک کیس کی سماعت کے دوران بجا فرمایا کہ لوگ مجھے مسجد کا خطیب کہیں یا مولوی مگر میں ایسے لبرلز سے سوال کرتا ہوں کہ وہ معاشرے کو کدھر لے جا رہے ہیں۔ یہ remarks انھوں نے  ایک ایسے کیس میں دیے جس میں لڑکا ایک لڑکی کو بھگا کر لایا اور الٹا لڑکی کے باپ کے خلاف wp بھی فائل کر دی کہ انھیں اس سے جان کا خطرہ ہے اور پولیس پروٹیکشن نہیں دے رہی جس پر فاضل جسٹس نے لڑکے  سے پوچھا کہ اسے شرم نہیں آئی کہ وہ کسی کی بیٹی کو بھگا کر بھی لایا ہے اورلڑکی کے والدین کو ذلیل بھی کر رہا ہے اور لڑکے سے جب پوچھا گیا کہ اسکی اپنی کتنی بہنیں ہیں تو اس نے جواب دیا کہ تین جس پر فاضل جج صاحب نے لڑکے سے کہا کہ کیا وہ اس بات کو پسند کرے گا کہ اسکی تینوں بہنیں بھی تیں لڑکوں سے گھر سے بھاگ کر شادی کر لیں جس پر لڑکے نے اپنا جواز پیش کیا کہ اس نے شرعی حق استمعال کیا ہے۔ جس پہ فاضل جج صاحب نے لڑکے سے پوچھا کہ وہ دن میں کتنی نمازیں پڑھتا ہے جس پر وہ کوئی جواب نہ دے سکا جو کہ اصل شرعیت ہے۔ افسوس اس بات کا کہ اسلام میں ولی کے بغیر نکاح کی اجازت نہ ہونے میں بھی ایک حکمت پنہاں ہے مگر آج لبلرل اور سیکولر بد بختوں نے اس اسلامی ملک کو بے حیا معاشرہ بنانے کا بیڑا اٹھا رکھا ہے۔ سرکاری پالیسیاں شرمین عبید اور بےلگام میڈیا کے ہاتھ میں چلی گئی ہیں۔ آج اگر ان کا راستہ نہ روکا گیا تو اسلامی جمہوریہ پاکستان مغرب کو بھی خدا نخواستہ پیچھے چھوڑ جائے گا۔ آج دیسی لبرلز dominate کر تے جارہے ہیں جبکہ اسلامی روایات دم توڑتی جارہی ہیں جس کے کے ذمہ دار ہم سب ہیں کیونکہ ہم لبرلز کے سامنے احساس کمتری کا شکار ہوتے جا رہے ہیں جو معاشرے اورنئی نسل کے لیے ایک زہر قاتل ہے۔ہمارے سامنے روزانہ سڑکوں کنارے سر عام جسم فروشی ہوتی ہے، ہمارے نوجوان لو تھائی جینز پہن کر نیم برہنہ حالت میں موٹر سائیکلز چلاتے ہیں۔ سکولوں ، کالجوں کے لڑکےبالوں کے وہ سٹائل بنا کر پھرتے ہیں جن کو ہمارے زمانے میں ہمارے بزرگ ’’کنجر سٹائل‘‘ کہا کرتے تھے اور اب یہ عام رواج ہے۔ ہر گلی میں دو دو بیوٹی سیلون کھل گئے ہیں جس میں لڑکے میک اپ کرواتے ہیں۔ یہ قوم کی نئی نسل کیا لڑے گی اپنی زمین کے لئے جو نائی کی دکان پر جا کر نئے سٹائل کے بال کٹوانےمیں مگن ہے اور ہیجڑوں کی طرح سرخی پاؤڈر لگا کر بننے سنورنے میں مگن ہے۔۔۔!!سوشل میڈیا کی دنیا میں کوئی پرنس ہے تو کوئی کنگ، چارمنگ ہے تو کوئی مون، ارے کوئی انسان بھی ہے۔۔۔؟؟ سارا سارا دن لڑکیوں سے باتیں کرتے رہتے ہیں۔ ان لڑکیوں کے والدین پر مجھے حیرت ہوتی ہے جو اتنے بے خبر ہیں اپنی بچیوں کی جانب سے۔ کوتاہیاں اپنی ہوتی ہیں پھر الزام کمپیوٹر پر، موبائل فونز پر اور انٹر نیٹ پر دھر دیتے ہیں۔ وہ عورتیں جو باہر نکلتی ہیں ان کو بنتے سنورتے یہ سوچنا چاہئے کہ باہر کی جو دنیا ہے وہ اندھی نہیں ہے، ان کی آنکھیں ہیں اور مفت کی مے قاضی بھی نہیں چھوڑا کرتا۔ عورت تو پھر مرد کی کمزوری ہے وہ اس سہولت سے فائدہ کیونکر نہ اٹھائے۔ خدا کا خوف ختم اور پیسے کے چھننے کا خوف بڑا ہو گیا ہے۔ لوگوں کو یہ فکر نہیں رہی کہ ان کے گھر کی بچیاں نئے نئے موبائل فونز کہاں سے لا رہی ہیں، وہ اس بات پر خوش ہیں کہ ان کی بچیوں اور بچوں کے دوست کتنے اچھے ہیں جو ان کو اتنے مہنگے تحائف دیتے ہیں۔ ایک لمحے کو اگر وہ یہ سوچیں کہ جو موبائل ان کی بیٹی نے اٹھایا ہےاس کی قیمت نقد نہیں بلکہ جسمانی مشقت سےچکائی ہے تو شرم سے ڈوب مریں لیکن جہاں اقدار پر پیسہ حاوی ہو جائے وہاں غیرت پر بے غیرتی حاوی ہو جاتی ہے اور یہی ہو رہا ہے اور تب تک ہوتا رہے گا جب تک ہم اس روش کو ترک نہیں کریں...!!یہ جھوٹ ہے کی آج کا انسان عورت کی آزادی چاہتا ہے ، بلکی سچ بات تو یہ ہے کی وہ عورت تک پہنچنے کی آزادی چاہتا ہے۔۔!!!
بشکریہ حلب

Kabhi Inkar Na Karna...

نوجوان کی آنکھوںمیں آنسو تھے، اس نے پلکوں پر ٹشو رکھ لیا، ہم سب چند لمحوں کے لیے خاموش ہوگئے۔ اس کی جگہ کوئی بھی ہوتا تو اس کی یہی صورتحال ہوتی،آپ ایک لمحے کے لیے خود سوچئے اگر آپ نے اچھی پوزیشن کے ساتھ ایم بی اے کیا ہو‘ اگر آپ ایک صحت مند اور خوبصورت جوان ہو لیکن آپ نوکری کے لیے جہاں بھی درخواست دیتے ہوں، آپ کو صاف جواب مل جاتا ہوتو آپ پرکیا گزرتی، آپ کارد عمل کیا ہوتا لہٰذا نوجوان بری طرح داخلی ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھا۔
میں نے اس سے کہا” میں تمہیں ایک کہانی سنانا چاہتاہوں “اس نے سر اٹھا کر میری طرف دیکھا۔اس کی آنکھوں میں تحیر اور بے بسی تھی، میں نے عرض کیا۔”کیپ ٹاﺅن کی میڈیکل یونیورسٹی کو طبی دنیا میں ممتاز حیثیت حاصل ہے۔ دنیا کا پہلا بائی پاس آپریشن اسی یونیورسٹی میں ہوا تھا‘ اس یونیورسٹی نے تین سال پہلے ایک ایسے سیاہ فام شخص کو ”ماسٹر آف میڈیسن“ کی اعزازی ڈگری دی جس نے زندگی میںکبھی سکول کا منہ نہیں دیکھا تھا۔ جو انگریزی کا ایک لفظ پڑھ سکتا تھا اور نہ ہی لکھ سکتا تھا لیکن 2003ءکی ایک صبح دنیا کے مشہور سرجن پروفیسر ڈیوڈ ڈینٹ نے یونیورسٹی کے آڈیٹوریم میں اعلان کیا،ہم آج ایک ایسے شخص کو میڈیسن کی اعزازی ڈگری دے رہے ہیں جس نے دنیا میں سب سے زیادہ سرجن پیدا کیے، جو ایک غیر معمولی استاداور ایک حیران کن سرجن ہے اور جس نے میڈیکل سائنس اور انسانی دماغ کو حیران کر دیا۔ اس اعلان کے ساتھ ہی پروفیسر نے ہیملٹن کا نام لیا اور پورے ایڈیٹوریم نے کھڑے ہو کراس کا استقبال کیا ۔ یہ اس یونیورسٹی کی تاریخ کا سب سے بڑا استقبال تھا“۔
نوجوان چپ چاپ سنتا رہا۔ میں نے عرض کیا ”ہیملٹن کیپ ٹاﺅن کے ایک دور دراز گاﺅںسنیٹانی میں پیدا ہوا۔ اس کے والدین چرواہے تھے، وہ بکری کی کھال پہنتا تھا اور پہاڑوں پر سارا سارا دن ننگے پاﺅں پھرتاتھا، بچپن میں اس کاوالد بیمار ہوگیا لہٰذاوہ بھیڑ بکریاں چھوڑ کر کیپ ٹاﺅن آگیا۔ ان دنوں کیپ ٹاﺅن یونیورسٹی میں تعمیرات جاری تھیں۔ وہ یونیورسٹی میں مزدور بھرتی ہوگیا۔اسے دن بھر کی محنت مشقت کے بعد جتنے پیسے ملتے تھے ،وہ یہ پیسے گھر بھجوا دیتاتھا اور خود چنے چبا کر کھلے گراﺅنڈ میں سو جاتاتھا۔وہ برسوں مزدور کی حیثیت سے کام کرتا رہا۔ تعمیرات کا سلسلہ ختم ہوا تو وہ یونیورسٹی میں مالی بھرتی ہوگیا۔ اسے ٹینس کورٹ کی گھاس کاٹنے کا کام ملا، وہ روز ٹینس کورٹ پہنچتا اور گھاس کاٹنا شروع کر دیتا ، و ہ تین برس تک یہ کام کرتا رہا پھر اس کی زندگی میں ایک عجیب موڑ آیا اور وہ میڈیکل سائنس کے اس مقام تک پہنچ گیا جہاںآج تک کوئی دوسرا شخص نہیں پہنچا۔ یہ ایک نرم اور گرم صبح تھی“۔
نوجوان سیدھا ہو کر بیٹھ گیا ۔ میں نے عرض کیا ”پروفیسر رابرٹ جوئز زرافے پرتحقیق کر رہے تھے، وہ یہ دیکھنا چاہتے تھے جب زرافہ پانی پینے کے لیے گردن جھکاتا ہے تو اسے غشی کا دورہ کیوں نہیں پڑتا، انہوں نے آپریشن ٹیبل پر ایک زرافہ لٹایا، اسے بے ہوش کیا لیکن جوں ہی آپریشن شروع ہوا زرافے نے گردن ہلا دی چنانچہ انہیں ایک ایسے مضبوط شخص کی ضرورت پڑ گئی جو آپریشن کے دوران زرافے کی گردن جکڑکر رکھے۔ پروفیسر تھیٹر سے باہر آئے، سامنے ہیملٹن گھاس کاٹ رہا تھا، پروفیسر نے دیکھا وہ ایک مضبوط قد کاٹھ کا صحت مند جوان ہے۔ انہوں نے اسے اشارے سے بلایا اور اسے زرافے کی گردن پکڑنے کا حکم دے دیا۔ ہیملٹن نے گردن پکڑ لی، یہ آپریشن آٹھ گھنٹے جاری رہا۔ اس دوران ڈاکٹر چائے اور کافی کے وقفے کرتے رہے لیکن ہیملٹن زرافے کی گردن تھام کر کھڑا رہا۔ آپریشن ختم ہوا تو وہ چپ چاپ باہر نکلا اور جا کر گھاس کاٹنا شروع کردی۔ دوسرے دن پروفیسر نے اسے دوبارہ بلا لیا، وہ آیا اور زرافے کی گردن پکڑ کر کھڑا ہوگیا، اس کے بعد یہ اس کی روٹین ہوگئی وہ یونیورسٹی آتا آٹھ دس گھنٹے آپریشن تھیٹر میں جانوروں کو پکڑتا اور اس کے بعد ٹینس کورٹ کی گھاس کاٹنے لگتا، وہ کئی مہینے دوہراکام کرتا رہا اور اس نے اس ڈیوٹی کاکسی قسم کااضافی معاوضہ طلب کیااور نہ ہی شکایت کی۔ پروفیسر رابرٹ جوئز اس کی استقامت اور اخلاص سے متاثر ہوگیا اور اس نے اسے مالی سے ”لیب اسسٹنٹ“ بنا دیا۔
ہیملٹن کی پروموشن ہوگئی۔ وہ اب یونیورسٹی آتا، آپریشن تھیٹر پہنچتا اور سرجنوں کی مدد کرتا۔ یہ سلسلہ بھی برسوں جاری رہا۔ 1958ءمیں اس کی زندگی میں دوسرا اہم موڑ آیا۔ اس سال ڈاکٹربرنارڈ یونیورسٹی آئے اور انہوں نے دل کی منتقلی کے آپریشن شروع کردیئے۔ ہیملٹن ان کا اسسٹنٹ بن گیا، وہ ڈاکٹر برنارڈ کے کام کو غور سے دیکھتا رہتا، ان آپریشنوں کے دوران وہ اسسٹنٹ سے ایڈیشنل سرجن بن گیا۔ اب ڈاکٹر آپریشن کرتے اور آپریشن کے بعد اسے ٹانکے لگانے کا فریضہ سونپ دیتے، وہ انتہائی شاندار ٹانکے لگاتا تھا، اس کی انگلیوں میں صفائی اور تیزی تھی، اس نے ایک ایک دن میں پچاس پچاس لوگوں کے ٹانکے لگائے۔ وہ آپریشن تھیٹر میں کام کرتے ہوئے سرجنوں سے زیادہ انسانی جسم کو سمجھنے لگا چنانچہ بڑے ڈاکٹروں نے اسے جونیئر ڈاکٹروں کو سکھانے کی ذمہ داری سونپ دی۔ وہ اب جونیئر ڈاکٹروں کو آپریشن کی تکنیکس سکھانے لگا۔وہ آہستہ آہستہ یونیورسٹی کی اہم ترین شخصیت بن گیا۔ وہ میڈیکل سائنس کی اصطلاحات سے ناواقف تھا لیکن وہ دنیا کے بڑے سے بڑے سرجن سے بہترسرجن تھا۔ 1970ءمیں اس کی زندگی میں تیسرا موڑ آیا، اس سال جگر پر تحقیق شروع ہوئی تو اس نے آپریشن کے دوران جگر کی ایک ایسی شریان کی نشاندہی کردی جس کی وجہ سے جگر کی منتقلی آسان ہوگئی۔ اس کی اس نشاندہی نے میڈیکل سائنس کے بڑے دماغوں کو حیران کردیا، آج جب دنیا کے کسی کونے میں کسی شخص کے جگر کا آپریشن ہوتا ہے اور مریض آنکھ کھول کر روشنی کو دیکھتا ہے تو اس کامیاب آپریشن کا ثواب براہ راست ہیملٹن کو چلا جاتا ہے،اس کا محسن ہیملٹن ہوتا ہے“ میں خاموش ہو گیا۔
نوجوان سنتا رہا، میں نے عرض کیا ”ہیملٹن نے یہ مقام اخلاص اور استقامت سے حاصل کیا۔ وہ 50 برس کیپ ٹاﺅن یونیورسٹی سے وابستہ رہا، ان 50 برسوں میں اس نے کبھی چھٹی نہیں کی۔ وہ رات تین بجے گھر سے نکلتا تھا، 14 میل پیدل چلتا ہوا یونیورسٹی پہنچتا اور ٹھیک چھ بجے تھیٹر میں داخل ہو جاتا۔ لوگ اس کی آمدورفت سے اپنی گھڑیاںٹھیک کرتے تھے، ان پچاس برسوں میں اس نے کبھی تنخواہ میں اضافے کا مطالبہ نہیں کیا، اس نے کبھی اوقات کار کی طوالت اور سہولتوں میں کمی کا شکوہ نہیں کیا لہٰذا پھر اس کی زندگی میں ایک ایسا وقت آیا جب اس کی تنخواہ اور مراعات یونیورسٹی کے وائس چانسلر سے زیادہ تھیں اور اسے وہ اعزاز ملا جو آج تک میڈیکل سائنس کے کسی شخص کو نہیں ملا۔ وہ میڈیکل ہسٹری کاپہلا ان پڑھ استاد تھا۔ وہ پہلا ان پڑھ سرجن تھا جس نے زندگی میں تیس ہزار سرجنوں کو ٹریننگ دی، وہ 2005ءمیں فوت ہوا تو اسے یونیورسٹی میںدفن کیاگیا اور اس کے بعدیونیورسٹی سے پاس آﺅٹ ہونے والے سرجنوں کے لیے لازم قرار دے دیا گیا وہ ڈگری لینے کے بعد اس کی قبر پر جائیں، تصویر بنوائیں اور اس کے بعد عملی زندگی میں داخل ہوجائیں“ میں رکا اور اس کے بعد نوجوانوں سے پوچھا ”تم جانتے ہو اس نے یہ مقام کیسے حاصل کیا“ نوجوان خاموش رہا، میں نے عرض کیا ”صرف ایک ہاں سے‘ جس دن اسے زرافے کی گردن پکڑنے کے لیے آپریشن تھیٹر میں بلایا گیاتھا اگر وہ اس دن انکار کردیتا، اگر وہ اس دن یہ کہہ دیتا میں مالی ہوں میرا کام زرافوں کی گردنیں پکڑنا نہیں تو وہ مرتے دم تک مالی رہتایہ اس کی ایک ہاں اور آٹھ گھنٹے کی اضافی مشقت تھی جس نے اس کے لیے کامیابی کے دروازے کھول دیئے اور وہ سرجنوں کا سرجن بن گیا“ ۔
نوجوان خاموش رہا، میں نے اس سے عرض کیا ”ہم میں سے زیادہ تر لوگ زندگی بھر جاب تلاش کرتے رہتے ہیں جبکہ ہمیں کام تلاش کرنا چاہیے“ نوجوان نے غور سے میری طرف دیکھا، میں نے عرض کیا” دنیا کی ہر جاب کا کوئی نہ کوئی کرائی ٹیریا ہوتا ہے اور یہ جاب صرف اس شخص کو ملتی ہے جو اس کرائی ٹیریا پر پورا اترتا ہے جبکہ کام کا کوئی کرائی ٹیریا نہیں ہوتا۔ میں اگر آج چاہوں تو میں چند منٹوں میں دنیا کا کوئی بھی کام شروع کر سکتا ہوں اور دنیا کی کوئی طاقت مجھے اس کام سے باز نہیں رکھ سکے گی۔ ہیملٹن اس راز کو پا گیا تھالہٰذا اس نے جاب کی بجائے کام کو فوقیت دی یوں اس نے میڈیکل سائنس کی تاریخ بدل دی۔ ذرا سوچو اگر وہ سرجن کی جاب کیلئے اپلائی کرتا تو کیا وہ سرجن بن سکتا تھا؟ کبھی نہیں، لیکن اس نے کھرپہ نیچے رکھا، زرافے کی گردن تھامی اور سرجنوں کا سرجن بن گیا“ میں رکا اور ہنس کر بولا ”تم اس لیے بے روزگار اور ناکام ہو کہ تم جاب تلاش کر رہے ہو، کام نہیں، جس دن تم نے ہیملٹن کی طرح کام شروع کردیا تم نوبل پرائز حاصل کر لوگے، تم بڑے اور کامیاب انسان بن جاﺅ گے۔۔۔۔

Thursday, December 29, 2016

"الله کی سمجھ نہیں آتی”

مجھے آج بھی یاد ہے
گہری سوچوں میں ڈوبے ہوے لمحوں میں، اپنے ہاتھوں کی لکیروں کوحسرت بھری نگاہوں سے دیکھتے ہوے ، میرے کسی سوال کے بنا ہی اس نے مجھ سے کہا تھا
“مجھے الله کی سمجھ نہیں آتی”
مجھے اسکی باتیں عجیب سی لگتیں ….
“آخر الله میں کیا چیز سمجھنے والی ہے… وہ خدا ہے .. اس سے بڑھ کر سمجھنے کو رہ ہی کیا جاتا ہے ”
… میری حیرانگی پر وہ سر جھکا کر که دیتا
آپ نہیں سمجھیں گی ….
مگر…….
“””الله “””
الله وہ ہے جو دعایں سنتا ہے قبول کرتا ہے ..
میری شاہرگ سے بھی زیادہ قریب
میرے دل کی باتوں کو بنا کہے جاننے والا
“””الله””””
کیا یہی سب کافی نہیں ہے اس “”الله”” کو سمجھنے کے لیے ..؟؟
شاید نہیں ہے
میری اس شاہرگ سے بھی زیادہ قریب الله کو میں نے جب بھی پکارا تو اس سننے والے نے مجھے سنا مگر … مجھے بھی یہ سمجھ آنے لگا کہ مجھے اسکی سمجھ نہیں آتی ..
میں نے اسی “”الله”” سے “”اسے””” مانگا (جس سے محبت کی )…. تو اس نے مجھے سنا مگر اس دعائیں قبول کرنے والے نے میری دعا قبول نہیں کی …
“میں نے تب اس “”الله”” کو اتنا ہی سمجھا کہ وہ جو کرتا ہے ہمارے حق میں بہتر کرتا ہے … ہاں یہی توسچ ہے میرا پیدا کرنے والا ہی تو میری بہتری کو مجھ سے بہتر جانتا ہے ….
مگر پھر یوں ہوا “””محبت “” کے جس خوبصورت رشتے کے بچھڑنے میں میری بہتری تھی ..مجھ سے اس بہتری کی تکلیف برداشت کرنا محال ہو گیا تھا …
تب پھر میں نے اس “”الله”” سے مانگا … کہ اب مجھے اس تکلیف سے رہائی دے دے … مگر اس بار پھر اس سننے والے نے مجھے سنا مگر مجھے عطا نہ کیا …
میری تکلیف بڑھنے لگی اور اسی تکلیف کے ساتھ ساتھ میری دعاؤں کے دورانیے بھی بڑھنے لگے .. مگر میری بہتری والے نے جانے مجھے کیسی بہتری دی تھی کہ میری تکلیفوں نے عروج کو پا لیا تھا ……
میں اگر اس “”الله”” سے شکوہ کرتی تو لوگ مجھے ناشکری انسان کہتے ، کوئی مجھے صبر کی ہدایت کرتا …کوئی کہتا
“” الله “”” تب انسان کی دعائیں قبول نہیں کرتا جب انسان کے گناہ بڑھ جاتے ہیں …. مجھے تب الله اتنا سمجھ آیا کے وہ روٹھ گیا ہے روٹھ جائے تو وہ قبول کرنے والا قبول نہیں کرتا…
میں نے جب اس روٹھے ہوئے کو منانے اور گناہوں کی بخشش کے طریقے پوچھنے کے لیے کسی بزرگ سے بات کی تو انہوں نے مجھے جو کہا اس سے الله کے لیے میری سمجھ پھر بدل گئی .
مجھ سے تب کہا گیا
“”الله”” سے جب اسکا کوئی بہت قریبی بندہ مانگتا ہے تو وہ دیر سے دیتا ہے .. وہ فرشتوں سے کہتا ہے اسے ابھی نہ عطا کرنا مجھے اسکی آواز بہت پسند ہے میں چاہتا ہوں یہ مجھ سے بار بار مانگے …..شاید اسی لیے اکثر وہ دعاؤں کی قبولیت میں دیر کرتا ہے …
… اس کے ہاں دیر ہے مگر اندھیر نہیں …..
پل میں مجھے میرا وجود گنہگار لگا تھا اور پل میں لگا کے میں اسکی مقرب ہوں …… ابھی مجھے اس “””الله “” کی اتنی ہی سمجھ آئی تھی کہ مجھے پھر سے لگا … ابھی تک مجھے اس “”الله”” کی سمجھ نہیں آئی …
یہ کیسا الله ہے جو پل میں مجھے گنہگار محسوس کرواتا ہے پل میں نیکوکار ہو جاتی ہوں …
وہ جو کہتا ہے کے مجھے پکارو میں قریب ہوں مجھ سے دعا مانگو میں دعائیں قبول کرتا ہوں.. پھر وہی اللہ ہے جو میری بہتریوں کا ضامن ہے ، وہ میری دعائیں اس لیے نہیں قبول کرتا کیونکہ اس نے مجھے بہتری دینی تھى…
پتا ہے اس دن کے بعد میں نے جب بھی دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے مجھے سمجھ ہی نہیں آیا میں اس الله سے کیا مانگوں .. کیونکہ مجھے اس الله کی سمجھ ہی نہیں آتی تھی … اب میں اس سے کیا مانگوں جو میری بہتری کو مجھ سے بہتر جانتا ہے….
میں نے اس دن کے بعد اس سے کبھی اپنی محبت نہیں مانگی ، کبھی اس سے اپنی تکلیفوں سے نجات نہیں مانگی .. میں نے چاہا تو بس سکون ..
پتا ہے وہ سکون بھی مجھے کہیں اور نہیں ملا اسی کے پاس ملا … اسی الله کے پاس جسکی مجھے اس بار بھی سمجھ نہیں آئی ،
وہ جس نے مجھے تکلیفیں دی ، وہ جس نے مجھے ان تکلیفوں سے نجات نہ بخشی … وہی الله ہے جس کے پاس مجھےسکون ملا ،،، خوشی اور راحت سے بڑھ کر تسکین دینے والا سکون …
ایسا سکون کے جس نے مجھے بےنیاز کر دیا ، محبتوں سے، خواہشوں سے ، دنیا سے …..
وہ جو ہم کتابوں میں پڑھتے ہیں نا وہ صرف لکھے ہوئے لفظ نہیں وہ بڑی گہری باتیں ہیں .. ظاہری بصارت سے پرے کی باتیں …. اس الله کے پاس بڑا جادو جیسا سکون ہے … عمومی زندگی میں ہم کہتے ہیں نا کہ الله کا ذکر سکون دیتا ہے ….. کیا اس سکوں کو سہی معنوں میں ہم نے محسوس کیا ہے ؟؟
کبھی فرست سے بیٹھ کر سوچئے گا .. کہ آخر وہ سکون کیسا ہے .. اسکی لذت کسی ہے ؟؟؟
اپ نے اگر محبت کی ہے تو آپ ضرور سمجھتے ہوں گے کہ محبت کا سوز کیسا ہوتا ہے
ہان وہی سوز جو جلاتا ہے نا ٹھنڈک دیتا ہے … بس سوز ہے …نا جیا جاتا ہے نا مرا جاتا ہے .. وہی سوز جسے ہم عقل کے حوصلوں سے دن میں ہزار بار مارتے ہیں ،،، ہزار عذر دے کر زندگی میں آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں مگر رات ہوتے ہی ہجر کی ہوائیں پھر اسے دہکا دیتی ہیں ..
وہی سوز میرے سینے میں جلتا ہے .. مگر یقین کریں جو سکوں الله نے اپنے پاس میں چھپا رکھا ہے نا … اس سکون کے سامنے وہ دہکتا ہوا سوز کچھ بھی نہیں ہے .. وہ چھو منتر ہو کر کہیں کھو جاتا ہے
جب میں نے ضد چھوڑ دی ، محبت چھوڑ دی ، بےنیازی پا لی ، سکوں پا لیا، تو پتا ہے اس الله نے مجھے کیا دیا
میری ناکام محبت
ہاں وہی محبت … بیدرد محبت … میرے ہر درد کی دوا بن کے آئی…..
آج میں اسی محبت کے ساتھ ندی کنارے وہی سوال ذہن میں لیے کھڑی رہتی ہوں ….
میرے لبوں پر بھی وہی ایک ہی سوال رہتا ہے ..
مجھے الله کی سمجھ نہیں آتی”…..
سرد ہواؤں سے ٹکرا کر بہتی ہوئی لہروں کو دیکھتے ہوے میرا ذہن یہی سوال کرتا ہے .. آخر اس الله کی سمجھ کیوں نہیں آتی ؟
اور وہی آواز ، میرے دل کے تخت میں بسی ہی آواز کی سرگوشی میرے کانوں میں کہتی ہے
وہ الله ہے اس لیے اسکی سمجھ نہیں آتی .
وہ الله ہی کیا ہوا اگر اسکی سمجھ آ جاتی
مخلوق کبھی خالق کو سمجھ پائی ہے جو آج سمجھے گی ….
میرا دل گھٹنے ٹیک کر اقرار کرتا ہے .. وہ آواز ، وہ جھکی ہوئی نظریں ، میری وہ خاموش سی محبت … اسکا حاصل میرے لیے کتنا بہتر تھا میرا دل گواہ تھا ،، وہ الله کے خزانے سے مجھ سے بھت زیادہ سکون پا چکا تھا، وہ مجھے آج ملا تھا … آج سے پہلے مل جاتا تو الله سے اس سکون کی پہچان مجھے نا ہوتی ،
ہاں وہ الله بہتر دیتا ہے ، وہ دعائیں قبول کرتا ہے .. وہ سنتا ہے ،اسی سے مانگا جاتا ہے
پھر بھی اسکی سمجھ نہیں آتی
الله کی سمجھ نہیں آتی”