Friday, March 3, 2017

کنجر کلچر

کنجر کلچر

جناب جسٹس شوکت عزیز صدیقی صاحب نے ایک کیس کی سماعت کے دوران بجا فرمایا کہ لوگ مجھے مسجد کا خطیب کہیں یا مولوی مگر میں ایسے لبرلز سے سوال کرتا ہوں کہ وہ معاشرے کو کدھر لے جا رہے ہیں۔ یہ remarks انھوں نے  ایک ایسے کیس میں دیے جس میں لڑکا ایک لڑکی کو بھگا کر لایا اور الٹا لڑکی کے باپ کے خلاف wp بھی فائل کر دی کہ انھیں اس سے جان کا خطرہ ہے اور پولیس پروٹیکشن نہیں دے رہی جس پر فاضل جسٹس نے لڑکے  سے پوچھا کہ اسے شرم نہیں آئی کہ وہ کسی کی بیٹی کو بھگا کر بھی لایا ہے اورلڑکی کے والدین کو ذلیل بھی کر رہا ہے اور لڑکے سے جب پوچھا گیا کہ اسکی اپنی کتنی بہنیں ہیں تو اس نے جواب دیا کہ تین جس پر فاضل جج صاحب نے لڑکے سے کہا کہ کیا وہ اس بات کو پسند کرے گا کہ اسکی تینوں بہنیں بھی تیں لڑکوں سے گھر سے بھاگ کر شادی کر لیں جس پر لڑکے نے اپنا جواز پیش کیا کہ اس نے شرعی حق استمعال کیا ہے۔ جس پہ فاضل جج صاحب نے لڑکے سے پوچھا کہ وہ دن میں کتنی نمازیں پڑھتا ہے جس پر وہ کوئی جواب نہ دے سکا جو کہ اصل شرعیت ہے۔ افسوس اس بات کا کہ اسلام میں ولی کے بغیر نکاح کی اجازت نہ ہونے میں بھی ایک حکمت پنہاں ہے مگر آج لبلرل اور سیکولر بد بختوں نے اس اسلامی ملک کو بے حیا معاشرہ بنانے کا بیڑا اٹھا رکھا ہے۔ سرکاری پالیسیاں شرمین عبید اور بےلگام میڈیا کے ہاتھ میں چلی گئی ہیں۔ آج اگر ان کا راستہ نہ روکا گیا تو اسلامی جمہوریہ پاکستان مغرب کو بھی خدا نخواستہ پیچھے چھوڑ جائے گا۔ آج دیسی لبرلز dominate کر تے جارہے ہیں جبکہ اسلامی روایات دم توڑتی جارہی ہیں جس کے کے ذمہ دار ہم سب ہیں کیونکہ ہم لبرلز کے سامنے احساس کمتری کا شکار ہوتے جا رہے ہیں جو معاشرے اورنئی نسل کے لیے ایک زہر قاتل ہے۔ہمارے سامنے روزانہ سڑکوں کنارے سر عام جسم فروشی ہوتی ہے، ہمارے نوجوان لو تھائی جینز پہن کر نیم برہنہ حالت میں موٹر سائیکلز چلاتے ہیں۔ سکولوں ، کالجوں کے لڑکےبالوں کے وہ سٹائل بنا کر پھرتے ہیں جن کو ہمارے زمانے میں ہمارے بزرگ ’’کنجر سٹائل‘‘ کہا کرتے تھے اور اب یہ عام رواج ہے۔ ہر گلی میں دو دو بیوٹی سیلون کھل گئے ہیں جس میں لڑکے میک اپ کرواتے ہیں۔ یہ قوم کی نئی نسل کیا لڑے گی اپنی زمین کے لئے جو نائی کی دکان پر جا کر نئے سٹائل کے بال کٹوانےمیں مگن ہے اور ہیجڑوں کی طرح سرخی پاؤڈر لگا کر بننے سنورنے میں مگن ہے۔۔۔!!سوشل میڈیا کی دنیا میں کوئی پرنس ہے تو کوئی کنگ، چارمنگ ہے تو کوئی مون، ارے کوئی انسان بھی ہے۔۔۔؟؟ سارا سارا دن لڑکیوں سے باتیں کرتے رہتے ہیں۔ ان لڑکیوں کے والدین پر مجھے حیرت ہوتی ہے جو اتنے بے خبر ہیں اپنی بچیوں کی جانب سے۔ کوتاہیاں اپنی ہوتی ہیں پھر الزام کمپیوٹر پر، موبائل فونز پر اور انٹر نیٹ پر دھر دیتے ہیں۔ وہ عورتیں جو باہر نکلتی ہیں ان کو بنتے سنورتے یہ سوچنا چاہئے کہ باہر کی جو دنیا ہے وہ اندھی نہیں ہے، ان کی آنکھیں ہیں اور مفت کی مے قاضی بھی نہیں چھوڑا کرتا۔ عورت تو پھر مرد کی کمزوری ہے وہ اس سہولت سے فائدہ کیونکر نہ اٹھائے۔ خدا کا خوف ختم اور پیسے کے چھننے کا خوف بڑا ہو گیا ہے۔ لوگوں کو یہ فکر نہیں رہی کہ ان کے گھر کی بچیاں نئے نئے موبائل فونز کہاں سے لا رہی ہیں، وہ اس بات پر خوش ہیں کہ ان کی بچیوں اور بچوں کے دوست کتنے اچھے ہیں جو ان کو اتنے مہنگے تحائف دیتے ہیں۔ ایک لمحے کو اگر وہ یہ سوچیں کہ جو موبائل ان کی بیٹی نے اٹھایا ہےاس کی قیمت نقد نہیں بلکہ جسمانی مشقت سےچکائی ہے تو شرم سے ڈوب مریں لیکن جہاں اقدار پر پیسہ حاوی ہو جائے وہاں غیرت پر بے غیرتی حاوی ہو جاتی ہے اور یہی ہو رہا ہے اور تب تک ہوتا رہے گا جب تک ہم اس روش کو ترک نہیں کریں...!!یہ جھوٹ ہے کی آج کا انسان عورت کی آزادی چاہتا ہے ، بلکی سچ بات تو یہ ہے کی وہ عورت تک پہنچنے کی آزادی چاہتا ہے۔۔!!!
بشکریہ حلب

Kabhi Inkar Na Karna...

نوجوان کی آنکھوںمیں آنسو تھے، اس نے پلکوں پر ٹشو رکھ لیا، ہم سب چند لمحوں کے لیے خاموش ہوگئے۔ اس کی جگہ کوئی بھی ہوتا تو اس کی یہی صورتحال ہوتی،آپ ایک لمحے کے لیے خود سوچئے اگر آپ نے اچھی پوزیشن کے ساتھ ایم بی اے کیا ہو‘ اگر آپ ایک صحت مند اور خوبصورت جوان ہو لیکن آپ نوکری کے لیے جہاں بھی درخواست دیتے ہوں، آپ کو صاف جواب مل جاتا ہوتو آپ پرکیا گزرتی، آپ کارد عمل کیا ہوتا لہٰذا نوجوان بری طرح داخلی ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھا۔
میں نے اس سے کہا” میں تمہیں ایک کہانی سنانا چاہتاہوں “اس نے سر اٹھا کر میری طرف دیکھا۔اس کی آنکھوں میں تحیر اور بے بسی تھی، میں نے عرض کیا۔”کیپ ٹاﺅن کی میڈیکل یونیورسٹی کو طبی دنیا میں ممتاز حیثیت حاصل ہے۔ دنیا کا پہلا بائی پاس آپریشن اسی یونیورسٹی میں ہوا تھا‘ اس یونیورسٹی نے تین سال پہلے ایک ایسے سیاہ فام شخص کو ”ماسٹر آف میڈیسن“ کی اعزازی ڈگری دی جس نے زندگی میںکبھی سکول کا منہ نہیں دیکھا تھا۔ جو انگریزی کا ایک لفظ پڑھ سکتا تھا اور نہ ہی لکھ سکتا تھا لیکن 2003ءکی ایک صبح دنیا کے مشہور سرجن پروفیسر ڈیوڈ ڈینٹ نے یونیورسٹی کے آڈیٹوریم میں اعلان کیا،ہم آج ایک ایسے شخص کو میڈیسن کی اعزازی ڈگری دے رہے ہیں جس نے دنیا میں سب سے زیادہ سرجن پیدا کیے، جو ایک غیر معمولی استاداور ایک حیران کن سرجن ہے اور جس نے میڈیکل سائنس اور انسانی دماغ کو حیران کر دیا۔ اس اعلان کے ساتھ ہی پروفیسر نے ہیملٹن کا نام لیا اور پورے ایڈیٹوریم نے کھڑے ہو کراس کا استقبال کیا ۔ یہ اس یونیورسٹی کی تاریخ کا سب سے بڑا استقبال تھا“۔
نوجوان چپ چاپ سنتا رہا۔ میں نے عرض کیا ”ہیملٹن کیپ ٹاﺅن کے ایک دور دراز گاﺅںسنیٹانی میں پیدا ہوا۔ اس کے والدین چرواہے تھے، وہ بکری کی کھال پہنتا تھا اور پہاڑوں پر سارا سارا دن ننگے پاﺅں پھرتاتھا، بچپن میں اس کاوالد بیمار ہوگیا لہٰذاوہ بھیڑ بکریاں چھوڑ کر کیپ ٹاﺅن آگیا۔ ان دنوں کیپ ٹاﺅن یونیورسٹی میں تعمیرات جاری تھیں۔ وہ یونیورسٹی میں مزدور بھرتی ہوگیا۔اسے دن بھر کی محنت مشقت کے بعد جتنے پیسے ملتے تھے ،وہ یہ پیسے گھر بھجوا دیتاتھا اور خود چنے چبا کر کھلے گراﺅنڈ میں سو جاتاتھا۔وہ برسوں مزدور کی حیثیت سے کام کرتا رہا۔ تعمیرات کا سلسلہ ختم ہوا تو وہ یونیورسٹی میں مالی بھرتی ہوگیا۔ اسے ٹینس کورٹ کی گھاس کاٹنے کا کام ملا، وہ روز ٹینس کورٹ پہنچتا اور گھاس کاٹنا شروع کر دیتا ، و ہ تین برس تک یہ کام کرتا رہا پھر اس کی زندگی میں ایک عجیب موڑ آیا اور وہ میڈیکل سائنس کے اس مقام تک پہنچ گیا جہاںآج تک کوئی دوسرا شخص نہیں پہنچا۔ یہ ایک نرم اور گرم صبح تھی“۔
نوجوان سیدھا ہو کر بیٹھ گیا ۔ میں نے عرض کیا ”پروفیسر رابرٹ جوئز زرافے پرتحقیق کر رہے تھے، وہ یہ دیکھنا چاہتے تھے جب زرافہ پانی پینے کے لیے گردن جھکاتا ہے تو اسے غشی کا دورہ کیوں نہیں پڑتا، انہوں نے آپریشن ٹیبل پر ایک زرافہ لٹایا، اسے بے ہوش کیا لیکن جوں ہی آپریشن شروع ہوا زرافے نے گردن ہلا دی چنانچہ انہیں ایک ایسے مضبوط شخص کی ضرورت پڑ گئی جو آپریشن کے دوران زرافے کی گردن جکڑکر رکھے۔ پروفیسر تھیٹر سے باہر آئے، سامنے ہیملٹن گھاس کاٹ رہا تھا، پروفیسر نے دیکھا وہ ایک مضبوط قد کاٹھ کا صحت مند جوان ہے۔ انہوں نے اسے اشارے سے بلایا اور اسے زرافے کی گردن پکڑنے کا حکم دے دیا۔ ہیملٹن نے گردن پکڑ لی، یہ آپریشن آٹھ گھنٹے جاری رہا۔ اس دوران ڈاکٹر چائے اور کافی کے وقفے کرتے رہے لیکن ہیملٹن زرافے کی گردن تھام کر کھڑا رہا۔ آپریشن ختم ہوا تو وہ چپ چاپ باہر نکلا اور جا کر گھاس کاٹنا شروع کردی۔ دوسرے دن پروفیسر نے اسے دوبارہ بلا لیا، وہ آیا اور زرافے کی گردن پکڑ کر کھڑا ہوگیا، اس کے بعد یہ اس کی روٹین ہوگئی وہ یونیورسٹی آتا آٹھ دس گھنٹے آپریشن تھیٹر میں جانوروں کو پکڑتا اور اس کے بعد ٹینس کورٹ کی گھاس کاٹنے لگتا، وہ کئی مہینے دوہراکام کرتا رہا اور اس نے اس ڈیوٹی کاکسی قسم کااضافی معاوضہ طلب کیااور نہ ہی شکایت کی۔ پروفیسر رابرٹ جوئز اس کی استقامت اور اخلاص سے متاثر ہوگیا اور اس نے اسے مالی سے ”لیب اسسٹنٹ“ بنا دیا۔
ہیملٹن کی پروموشن ہوگئی۔ وہ اب یونیورسٹی آتا، آپریشن تھیٹر پہنچتا اور سرجنوں کی مدد کرتا۔ یہ سلسلہ بھی برسوں جاری رہا۔ 1958ءمیں اس کی زندگی میں دوسرا اہم موڑ آیا۔ اس سال ڈاکٹربرنارڈ یونیورسٹی آئے اور انہوں نے دل کی منتقلی کے آپریشن شروع کردیئے۔ ہیملٹن ان کا اسسٹنٹ بن گیا، وہ ڈاکٹر برنارڈ کے کام کو غور سے دیکھتا رہتا، ان آپریشنوں کے دوران وہ اسسٹنٹ سے ایڈیشنل سرجن بن گیا۔ اب ڈاکٹر آپریشن کرتے اور آپریشن کے بعد اسے ٹانکے لگانے کا فریضہ سونپ دیتے، وہ انتہائی شاندار ٹانکے لگاتا تھا، اس کی انگلیوں میں صفائی اور تیزی تھی، اس نے ایک ایک دن میں پچاس پچاس لوگوں کے ٹانکے لگائے۔ وہ آپریشن تھیٹر میں کام کرتے ہوئے سرجنوں سے زیادہ انسانی جسم کو سمجھنے لگا چنانچہ بڑے ڈاکٹروں نے اسے جونیئر ڈاکٹروں کو سکھانے کی ذمہ داری سونپ دی۔ وہ اب جونیئر ڈاکٹروں کو آپریشن کی تکنیکس سکھانے لگا۔وہ آہستہ آہستہ یونیورسٹی کی اہم ترین شخصیت بن گیا۔ وہ میڈیکل سائنس کی اصطلاحات سے ناواقف تھا لیکن وہ دنیا کے بڑے سے بڑے سرجن سے بہترسرجن تھا۔ 1970ءمیں اس کی زندگی میں تیسرا موڑ آیا، اس سال جگر پر تحقیق شروع ہوئی تو اس نے آپریشن کے دوران جگر کی ایک ایسی شریان کی نشاندہی کردی جس کی وجہ سے جگر کی منتقلی آسان ہوگئی۔ اس کی اس نشاندہی نے میڈیکل سائنس کے بڑے دماغوں کو حیران کردیا، آج جب دنیا کے کسی کونے میں کسی شخص کے جگر کا آپریشن ہوتا ہے اور مریض آنکھ کھول کر روشنی کو دیکھتا ہے تو اس کامیاب آپریشن کا ثواب براہ راست ہیملٹن کو چلا جاتا ہے،اس کا محسن ہیملٹن ہوتا ہے“ میں خاموش ہو گیا۔
نوجوان سنتا رہا، میں نے عرض کیا ”ہیملٹن نے یہ مقام اخلاص اور استقامت سے حاصل کیا۔ وہ 50 برس کیپ ٹاﺅن یونیورسٹی سے وابستہ رہا، ان 50 برسوں میں اس نے کبھی چھٹی نہیں کی۔ وہ رات تین بجے گھر سے نکلتا تھا، 14 میل پیدل چلتا ہوا یونیورسٹی پہنچتا اور ٹھیک چھ بجے تھیٹر میں داخل ہو جاتا۔ لوگ اس کی آمدورفت سے اپنی گھڑیاںٹھیک کرتے تھے، ان پچاس برسوں میں اس نے کبھی تنخواہ میں اضافے کا مطالبہ نہیں کیا، اس نے کبھی اوقات کار کی طوالت اور سہولتوں میں کمی کا شکوہ نہیں کیا لہٰذا پھر اس کی زندگی میں ایک ایسا وقت آیا جب اس کی تنخواہ اور مراعات یونیورسٹی کے وائس چانسلر سے زیادہ تھیں اور اسے وہ اعزاز ملا جو آج تک میڈیکل سائنس کے کسی شخص کو نہیں ملا۔ وہ میڈیکل ہسٹری کاپہلا ان پڑھ استاد تھا۔ وہ پہلا ان پڑھ سرجن تھا جس نے زندگی میں تیس ہزار سرجنوں کو ٹریننگ دی، وہ 2005ءمیں فوت ہوا تو اسے یونیورسٹی میںدفن کیاگیا اور اس کے بعدیونیورسٹی سے پاس آﺅٹ ہونے والے سرجنوں کے لیے لازم قرار دے دیا گیا وہ ڈگری لینے کے بعد اس کی قبر پر جائیں، تصویر بنوائیں اور اس کے بعد عملی زندگی میں داخل ہوجائیں“ میں رکا اور اس کے بعد نوجوانوں سے پوچھا ”تم جانتے ہو اس نے یہ مقام کیسے حاصل کیا“ نوجوان خاموش رہا، میں نے عرض کیا ”صرف ایک ہاں سے‘ جس دن اسے زرافے کی گردن پکڑنے کے لیے آپریشن تھیٹر میں بلایا گیاتھا اگر وہ اس دن انکار کردیتا، اگر وہ اس دن یہ کہہ دیتا میں مالی ہوں میرا کام زرافوں کی گردنیں پکڑنا نہیں تو وہ مرتے دم تک مالی رہتایہ اس کی ایک ہاں اور آٹھ گھنٹے کی اضافی مشقت تھی جس نے اس کے لیے کامیابی کے دروازے کھول دیئے اور وہ سرجنوں کا سرجن بن گیا“ ۔
نوجوان خاموش رہا، میں نے اس سے عرض کیا ”ہم میں سے زیادہ تر لوگ زندگی بھر جاب تلاش کرتے رہتے ہیں جبکہ ہمیں کام تلاش کرنا چاہیے“ نوجوان نے غور سے میری طرف دیکھا، میں نے عرض کیا” دنیا کی ہر جاب کا کوئی نہ کوئی کرائی ٹیریا ہوتا ہے اور یہ جاب صرف اس شخص کو ملتی ہے جو اس کرائی ٹیریا پر پورا اترتا ہے جبکہ کام کا کوئی کرائی ٹیریا نہیں ہوتا۔ میں اگر آج چاہوں تو میں چند منٹوں میں دنیا کا کوئی بھی کام شروع کر سکتا ہوں اور دنیا کی کوئی طاقت مجھے اس کام سے باز نہیں رکھ سکے گی۔ ہیملٹن اس راز کو پا گیا تھالہٰذا اس نے جاب کی بجائے کام کو فوقیت دی یوں اس نے میڈیکل سائنس کی تاریخ بدل دی۔ ذرا سوچو اگر وہ سرجن کی جاب کیلئے اپلائی کرتا تو کیا وہ سرجن بن سکتا تھا؟ کبھی نہیں، لیکن اس نے کھرپہ نیچے رکھا، زرافے کی گردن تھامی اور سرجنوں کا سرجن بن گیا“ میں رکا اور ہنس کر بولا ”تم اس لیے بے روزگار اور ناکام ہو کہ تم جاب تلاش کر رہے ہو، کام نہیں، جس دن تم نے ہیملٹن کی طرح کام شروع کردیا تم نوبل پرائز حاصل کر لوگے، تم بڑے اور کامیاب انسان بن جاﺅ گے۔۔۔۔